24

صدر ٹرمپ کا چین اور عالمی ادارہ صحت پر کورونا وائرس پھیلانے کا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او )پر کورونا وائرس دنیا میں پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکا کی جانب سے ہر سال عالمی ادارہ صحت کو دی جانے والی فنڈنگ کو روکنے کا اعلان کردیا ہے . امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او سفری پابندیوں کی مخالفت اور چین کے اس بیانیئے کو پھیلاتا رہا ہے کہ وائرس ایک انسان سے دوسرے میں منتقل نہیں ہورہا.
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ڈبلیو ایچ او کو سالانہ 40 سے 50 کروڑ ڈالر کی امداد دیتا ہے لیکن دستاویزات کے مطابق یہ رقم 10 کروڑ ڈالر سے تھوڑی زیادہ ہے‘امریکی صدر نے ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی کے حوالے سے بھی دبے لفظوں میں دھمکی دی ہے. انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا جب تک ڈبلیو ایچ او اپنے افعال نہیں بدلتا‘صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے حوالے سے امریکی انٹیلی ایجنسیز کی رپورٹس کو نظر انداز کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے بروقت کوئی فیصلہ نہیں کر سکے جس کی وجہ امریکہ میں وبا کے سنگین نتائج رونما ہوئے ہیں.
یہاں یہ عمل بھی قابل ذکر ہے کہ چین میں کورونا کے پھیلاﺅ اور امریکا کی ریاست واشنگٹن میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے انٹرنیشنل ہیلتھ ایمرجنسی نافذکرنے کی تجویز دی تھی جس پر دنیا کے امیراور طاقتور ممالک نے عمل درآمد نہیں ہونے دیا تھا اور وباءکے تیزی سے پھیلاﺅ کے بعد لاک ڈاﺅن‘سفری پابندیاں‘عالمی ہیلتھ ایمرجنسی جیسے اقدامات کیئے گئے تھے.
صدر ٹرمپ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او معلومات بروقت حاصل کرنے تصدیق کرنے اور ہمارے ساتھ شیئر کرنے میں ناکام رہا ہے وہ اپنا بنیادی کام کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس پر ان کا احتساب ہونا چاہیے‘انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کرنے میں جو تاخیر کی وہ بہت قیمتی وقت ضائع کرنے کا باعث بنی. صدر ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی ڈبلیو ایچ پر عائد کی ہے انہوں نے کہا کہ وائرس کے پھیلاﺅ اور سنگین بدانتظامی میں عالمی ادارہ صحت کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا اور اب ہم بات کریں گے کہ جو رقم عالمی ادارہ صت کو جاتی تھی اس کا کس طرح استعمال کیا جائے گا.امریکی صدر نے کہا کہ اگر عالمی ادارہ صحت نے طبی ماہرین کو بھیج کر صورتحال کا جائزہ لینے کا اپنا فرض انجام دیا ہوتا اور وائرس کے حوالے سے چین کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہوتے تو اس وائرس کو پھیلاﺅ سے روک کر کئی ہزاروں افراد کو مرنے اور عالمی معیشت کو تباہی سے بچایا جا سکتا تھا.
ادھر عالمی ادارہ صحت کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ ڈبلیو ایچ او کےوسائل میں کمی کا مناسب وقت نہیں، وائرس کا پھیلاﺅ اور اس کے خطرناک نتائج کو روکنے کیلئے یہ اتحاد اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر یکجہتی سے کام کرنے کا وقت ہے.اقوام متحدہ دنیا بھر میں عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا ڈونر ہے جس نے 2019 میں 400ملین ڈالر سے زائد کی رقم عطیہ کی تھی جو مجموعی بجٹ کا 15فیصد بنتی ہے‘آسٹریلین وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے امریکی صدر سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تنقید کو کسی حد تک جائز قرار دیا اور کہا کہ عالمی اداری صحت نے چین کو مکمل سپورٹ کرتے ہوئے ”ویٹ مارکیٹس“کھولنے کی اجازت دی جہاں ذبح کیے جانے والے جانور فروخت کیے جاتے ہیں اور جہاں گزشتہ سال ووہان میں پہلا کیس سامنے آیا تھا.لیکن انہوں نے کہا عالمی ادارہ صحت نے خصوصی طور پر پیسیفک خطے میں بہت کام کیا ہے اور ہم ان سے مکمل رابطے میں ہیں امریکا میں صرف منگل کو 2ہزار 200افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد امریکی معیشت اور دیگر سرگرمیوں کو فوری طوعر پر کھولنے یا نہ کھولنے کے حوالے بحث شروع ہو گئی ہے امریکا میں نیویارک شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک کم از کم 10ہزار افراد مر چکے ہیں.
امریکا کی جانب سے فنڈز روکے جانے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان سمیت دیگر ممالک اور ماہرین نے خبردار کیا کہ فنڈز روکنے سے ادارے کی وائرس سے لڑنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدترین بحران میں ہر گزرتے دن کے ساتھ صدر اپنی سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے عالمی ادارہ صحت سیاسی مخالفین، چین اپنے پیشرو کو ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں تاکہ اس حقیقت سے لوگوں کی توجہ ہٹا سکیں کہ ان کی انتظامیہ اس بحران سے نمٹنے میں ناکام رہی اور اب اس سے ہزاروں امریکی انسانی جانوں کا ضیاں ہو رہا ہے.امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے غلط سمت میں خطرناک قدم قرار دیا ہے امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر پیٹریس ہیرس نے کہا کہ ٹرمپ کے اس فیصلے سے کووڈ-19 کو شکست دینے میں کوئی مدد نہیں ملے گی اور انہیں اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے.
جان ہوپکنز یونیورسٹی کے سینٹر فار ہیلتھ کے ماہر ڈاکٹر امیش ایڈلجا نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے اس وبا کے درمیان میں غلط پیغام جائے گا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت سے غلطی ہوئی جیسا کہ 2013 اور 2014 میں ایبولا کی وبا پھیلنے کے وقت ان سے غلطی ہوئی تھی.جبکہ ردعمل میں اقوام متحدہ نے عالمی ادارہ صحت کا دفاع کیا ہے‘فیصلے کے ردعمل میں بل گیٹس نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے اس بحران کے دوران عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنا اتنا ہی خطرناک ہے جتنا لگتا ہے.
دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے بل گیٹس نے مزید لکھا کہ ان کا کام کووڈ 19 کا پھیلاﺅروک رہا ہے اور اگر یہ کام روکا گیا تو اس ادارے کی جگہ لینے والا اور کوئی ادارہ نہیں اس وقت دنیا کو عالمی ادارہ صحت کی ضرورت اتنی زیادہ ہے جتنی پہلے کبھی نہیں تھی‘یاد رہے کہ بل گیٹس کی فلاحی تنظیم بھی عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ کرتا ہے. واضح رہے کہ امریکہ میں کورونا سے ایک دن کے دوران ہونے والی اموات کی تعداد ریکارڈ 2228 ہلاکتوں تک جا پہنچی ہے‘جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثر ہو کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2228 تھی.
یاد رہے اس سے قبل امریکہ میں ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کی تعداد 2108 تھی جو 10 اپریل کو ہوئیں تھیں امریکہ میں اب تک کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 25757 ہو چکی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو شٹ ڈاﺅن کے حوالے سے کہا کہ بہت جلد اسے ختم کیا جا سکتا ہے. جانز ہاپکنز کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 20 لاکھ کے قریب اور ہلاکتیںایک لاکھ 26 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں.
بھارت نے ملک گیر لاک ڈاو¿ن میں تین مئی جبکہ فرانس میں 11 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے دنیا کے جو ممالک اب کورونا وائرس کے پیش نظر عائد کی گئی پابندیاں ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں ان کے لیے عالمی ادارہ صحت نے معیار طے کر دیا ہے جبکہ یونیسیف نے خطرے کا اظہار کیا ہے کہ زیادہ توجہ کورونا پر ہونے کی وجہ سے خسرہ کی بیماری کے سر اٹھانے کا اندیشہ ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں