23

وباء طویل عرصہ تک جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کی برآمدات میں رواں مالی سال کے دوران 19.7 فیصد کی کمی ممکن ہے،

) عالمی بنک نے کہاہے کہ کوروناوائرس کی وباء طویل عرصہ تک جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کی برآمدات میں جاری مالی سال کے دوران 19.7 فیصد کی کمی رونماء ہوسکتی ہی تاہم لاک ڈاون کے منفی اثرات کے باوجود پاکستان کازرعی شعبہ بڑھوتری کی راہ پرگامزن رہے گا، جاری مالی سال میں زراعت کی بڑھوتری کی شرح میں ایک فیصد اور مالی سال 2020-21ء اورمالی سال 2021-22 میں اس شعبہ میں بالترتیب 1.7 اور2.3 فیصد کی بڑھوتری متوقع ہے۔
یہ بات عالمی بنک کی سال میں دومرتبہ جاری ہونے والی اپڈیٹ رپورٹ ’’جنوبی ایشیاء اقتصادی منظرنامہ‘‘ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق بیس لائن منظرنامہ کے تناظرمیں پاکستان سال 2020-21 میں پاکستانی برآمدات کی بڑھوتری میں 5.3 فیصد کی کمی متوقع ہے تاہم مالی سال 2021-22 میں پاکستان کی برآمدات میں 7.3 فیصد کااضافہ ہوسکتاہے۔
رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے دوران اشیاء اورخدمات کی درآمدات میں 26.3 فیصد کمی متوقع ہے، آنیوالے دومالی سالوں میں اشیاء اورخدمات کی درآمدات میں بالترتیب 7.7 فیصد اور4.8 فیصد کمی ہوگی۔

جاری مالی سال میں خدمات کی بڑھوتری کی شرح میں 1.7 فیصدکمی متوقع ہے،مالی سال 2020-21 میں خدمات کی بڑھوتری کی شرح 0.8 فیصد اوراس سے اگلے سال میں 3.4 فیصد بڑھ سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال میں صنعتی شعبہ کی بڑھوتری میں 2.1 فیصدکمی جبکہ مالی سال 2020-21ء اورمالی سال 2021-22 میں اس شعبہ میں بالترتیب 0.7 فیصد اور3.7 فیصدتک اضافہ ممکن ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ لاک ڈاون کے منفی اثرات کے باوجود پاکستان کازرعی شعبہ بڑھوتری کی راہ پرگامزن رہے گا، جاری مالی سال میں زراعت کی بڑھوتری کی شرح میں ایک فیصد اور مالی سال 2020-21ء اورمالی سال 2021-22 میں اس شعبہ میں بالترتیب 1.7 اور2.3 فیصد کی بڑھوتری متوقع ہے۔
رپورٹ میں کہاگیاہے کہ جاری مالی سال کے اختتام پرمہنگائی کی شرح 11.8 فیصد تک رہنے کاامکان ہے، مالی سال 2020-21ء اورمالی سال 2021-22 میں ملک میں مہنگائی کی شرح بالترتیب 9.5 اور6 فیصد تک گرنے کاامکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں