54

میری بیماری ،میری مرضی

میرا جسم میری مرضی‘ کی مہم کو لے کر اس وقت سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے جب کہ اس معاملے پر ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان کی خاتون ماروی سرمد کے حوالے سے کی گئی گفتگو کے بعد تو ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔’میرا جسم میری مرضی‘ کی مہم کے حوالے سے لوگوں کی مختلف آراء دیکھنے میں آ رہی ہے۔تاہم اس صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیل الرحمن کی زبان وبیان سے متاثر ہو کر میاں صاحب نے بھی کہہ دیا ہے “میری بیماری ،میری مرضی‘۔
جب کہ دوسری جانب ڈاکٹرعامر لیاقت کا کہنا تھا کہ خلیل الرحمان قمر کا ذہنی توازن درست نہیں ہے، انکا علاج کروایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ڈرامہ نویس کو معاشرے میں تنہا رکھا جائے، اللہ تعالیٰ نے ہرچیز خوبصورت بنائی ہے اور کسی کو بدصورت کہنے کا آپکو حق نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ خلیل الرحمان قمر کے الفاظوں نے تمام مردوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں، میں انکو لکھاری نہیں مانتا، ان کے اندر تکبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، انھوں نے علامہ اقبال سے متعلق کہا تھا کہ انھیں اپنے شعروں کے لیے اصلاح کی ضرورت پڑتی ہو گی لیکن مجھے نہیں پڑتی۔

عامر لیاقت نے کہا کہ جو شخص مرزا غالب اور ڈاکٹر علامہ اقبال کو نہ مانتا ہوں، اپنی ذات میں مگن ہو اس علاج کی ضرورت ہے۔جب کہ نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے معروف مصنف خلیل الرحمان قمر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی یہ نعرہ لگاتا ہے کہ ’میرا جسم میری مرضی‘ تو اسکا مطلب یہ ہے کہ جس باپ نے آپکو پالا اسکا آپ پر کوئی حق نہیں ہے، جس بھائی نے آپکی حفاظت کی اسکا آپ پر کوئی حق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرا سوشل سیٹ اپ ایسا نہیں ہے، میرے ہاں ادب سکھانے کے معاملے بھائی، باپ اور ماں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں