51

کورونا 1930کی کساد بازاری سے بھی خطرناک ہوگا. آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ 1930 کے” گریٹ ڈیپریشن“ کے بعد کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کے لیے یہ سال بد ترین ثابت ہو گا. انٹرنیشنل مانٹیری فنڈ کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کے 3فی صد سکڑنے کا امکان ہے جو کہ 2009ءکی کساد بازاری صفر اعشاریہ ایک کے مقابلے میںبہت زیادہ ہے.کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے پہلے، توقع کی جا رہی تھی کہ 2021ءمیں عالمی معیشت کی شرح نمو 5اعشاریہ8 ہوگا ادارے کا کہنا ہے کہ آئندہ سال معیشت کے دوبارہ بحال ہونے کے امکانات بے یقینی کا شکار ہیں.
وائرس کی وجہ سے عوامی صحت اور عالمی شرح نمو کو پہنچنے والے نقصانات سے پہلے آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی تھی کہ اس سال عالمی شرح نمو3 اعشاریہ3 فی صد ہوگی لیکن عالمی وبا کے پھیلاﺅ کو قابو میں رکھنے کے لیے لاک ڈاﺅن، کاروباری اداروں کا بند ہونا، سماجی دوری، اور سفری پابندیوں جیسے اقدامات کی وجہ سے تقریباً پوری دنیا میں معاشی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں.
آئی ایم ایف کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ عالمی گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ نو ٹریلین ڈالر تک ہو سکتا ہے، جو کہ جرمنی اور جاپان کی معیشتوں سے زیادہ ہے. جی ڈی پی کسی بھی معاشی آﺅٹ پٹ کا وسیع تر احاطہ کرتی ہے آئی ایم ایف نے ورلڈ بینک کے ساتھہ مل کر سال میں دو بار جاری ہونے والی ورلڈ اکنامک آﺅٹ ل±ک کو اس ہفتے مرتب کیا ہے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں عالمی مالیاتی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال امریکہ کی معیشت 5اعشاریہ 9 فیصد سکڑے گی، جبکہ یورو کرنسی استعمال کرنے والی 19 یورپی ممالک کی معیشت 7 اعشاریہ 5 فیصد، جاپان5 اعشاریہ2 اور برطانیہ کی معیشت 6 اعشاریہ 5 فیصد سکڑے گی.
چین سے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا اور اس کی شرح نمو میں ایک اعشاریہ دو فی صد کمی ہو گی دوسرے ملکوں کی نسبتا دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت نے دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہت پہلے اپنی معاشی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے. ادارے نے پیش گوئی کی ہے عالمی تجارت میں اس سال 11فیصد کمی ہو گی، جبکہ آئندہ سال 2021ءمیں اس کی شرح نمو 8 اعشاریہ4 فی صد ہو گی گزشتہ ہفتے، آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر، کرسٹلینا جورجیوا نے متنبہ کیا تھا کہ دنیا کو1930کی دہائی کی کساد بازاری (گریٹ ڈیپریشن)کے بعد، بد ترین کساد بازاری کا سامنا ہو گا.
ان کا کہنا تھا کہ افریقہ، لاطینی امریکہ اور زیادہ تر ایشیا کی ابھرتی ہوئی منڈیاں بد ترین اور کم آمدن والے ممالک کو سب سے زیادہ خطرہ ہے پیر کے روز، آئی ایم ایف نے 25غریب ممالک کے ذمہ واجب الادا پانچ سو ملین ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی میں چھہ ماہ کی توسیع کی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں